تبلیغی جماعت: ایک درد سے اٹھنے والی ایمان کی تحریک جو دلوں کی دنیا بدل گئی
تبلیغی جماعت: تاریخ، مقصد اور ایمان کی عالمگیر تحریک
تعارف
انیسویں اور بیسویں صدی کے سنگم پر امتِ مسلمہ نہ صرف برِصغیر بلکہ دنیا بھر میں زوال کا شکار تھی۔ برصغیر میں مغلیہ سلطنت کے اختتام اور برطانوی راج کے تسلط کے دوران مسلمانوں میں دینی جذبہ ماند پڑتا جا رہا تھا۔ علمائے حق تشویش میں مبتلا تھے کہ مسلمانوں کی پستی کا سبب دین سے دوری اور اعمالِ صالحہ سے غفلت ہے۔ ہندوؤں کی شدّھی جیسی تحریکیں مسلمانوں کو مرتد کرنے پر تلی ہوئی تھیں اور کئی سادہ لوح مسلمان بنیادی دینی تعلیم نہ ہونے کے باعث ایمان کھو بیٹھے تھے۔ ایسے پُرآشوب دور میں مسلمان مفکرین اور مشائخ نے اصلاحِ احوال اور احیائے ایمان کی تحریکیں برپا کرنے کی ٹھانی۔
انہی حالات میں 1926ء میں ایک جلیل القدر عالمِ دین مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ نے دہلی کے علاقے نظام الدین سے “تبلیغی جماعت” کی بنیاد رکھی۔ مولانا الیاسؒ نے یہ تحریک بےعمل مسلمانوں کو دوبارہ اصلی مسلمان بنانے کے جذبے سے شروع کی اور اس کا مقصد قرآن کے حکم کے مطابق نیکی کا حکم اور برائی سے روکنے والی امت بنانا تھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے: “اے مسلمانو! مسلمان بنو” یعنی اس کلمہ کے تقاضوں پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہو جاؤ۔ اسی لیے مولانا نے سرکاری نام رکھنے کے بجائے اپنے کام کو “تحریکِ ایمان” کا عنوان دیا۔ اس تحریک کا نصب العین صحابہ کرامؓ جیسا ایمان پیدا کرنا اور امت میں قرونِ اولیٰ والا ایثار و یقین زندہ کرنا تھا۔
مولانا الیاسؒ ابتدا میں میوات کے علاقے میں تشریف لے گئے جو اُس وقت اسلامی تعلیم سے محرومی کے باعث ہندو رسومات میں گھرا ہوا تھا۔ آپ نے گاؤں گاؤں پھر کر مسلمانوں کو کلمہ، نماز اور بنیادی دین سکھانے کی مہم شروع کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ محنت رنگ لانے لگی اور عام مسلمانوں کے دل ایمان کی حرارت سے منور ہونے لگے۔ رفتہ رفتہ یہ محنت پھیلی، اجتماعات بڑھے اور یہ پیغام ایک خاموش مگر طاقتور انقلاب کی شکل اختیار کر گیا۔
بنیاد: چھ صفات
تبلیغی جماعت کی محنت کی بنیاد چھ مخصوص صفات پر ہے جو صحابۂ کرامؓ کی زندگیوں سے ماخوذ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ عام مسلمان دین کی روح کو چند بنیادی اصولوں کی شکل میں سمجھ کر اپنی زندگی میں نافذ کر سکے۔ ان صفات کو اختیار کرنے سے مسلمان کی شخصیت کی اصلاح ہوتی ہے اور پورے دین پر عمل کی راہ کھلتی ہے۔
1) ایمان (کلمۂ طیبہ کا یقین)
تمام خوبیوں کی جڑ ایمان ہے۔ دل میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، کمال قدرت اور حضور نبی کریم ﷺ کی رسالت کا ایسا پختہ یقین کہ مخلوق کے دباؤ کا اثر زائل ہو جائے۔ کلمۂ طیبہ کا تقاضا ہے کہ بندہ پوری طرح اللہ ہی کو اپنا کارساز سمجھے اور کامیابی کو اللہ کے دین کی پیروی میں تلاش کرے، نہ کہ دنیاوی چالاکیوں میں۔ اسی یقین کو بڑھانے کے لیے اللہ کی عظمت، انبیاء علیہم السلام اور صحابہؓ کے واقعاتِ ایمان افروز کا بیان، غور و فکر اور دعا کی طرف خصوصی توجہ دلائی جاتی ہے۔
2) نماز (اہتمامِ صلوٰۃ)
ایمان کے بعد سب سے اہم فرض نماز ہے جو دین کا ستون اور مومن کی معراج ہے۔ تبلیغی محنت میں نماز کو خشوع و خضوع اور جماعت کے اہتمام کے ساتھ ادا کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ پنجوقتہ نماز وقت پر، مسجد میں، تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ بندہ ہر دن اپنے رب سے جڑ کر رہے اور گناہوں سے بچنے کی قوت پائے۔
3) علم اور ذکر
علم کے بغیر عمل کمزور ہوتا ہے اور ذکر کے بغیر دل سخت ہو جاتا ہے۔ اس لیے روزانہ کچھ وقت “تعلیم” کے لیے رکھا جاتا ہے، یعنی دینی کتاب پڑھنا سننا، قرآن کی تلاوت، اور بنیادی مسائل سیکھنا۔ ساتھ ہی اللہ کا ذکر (تسبیحات، دعائیں، درود شریف) دل کی زندگی اور سکون کا ذریعہ ہے۔ اس ماحول میں زبان اور دل دونوں کو اللہ کی یاد کا عادی بنایا جاتا ہے۔
4) اکرامِ مسلم
ہر مسلمان کی عزت، خیر خواہی اور خدمت یہ محنت کی بنیادی روح ہے۔ اس میں سکھایا جاتا ہے کہ عیب جوئی نہ کرو، دل نہ توڑو، برداشت اور نرمی سے پیش آؤ، اور بھائی کے حقوق ادا کرو۔ جب اکرام پیدا ہوتا ہے تو دل قریب آتے ہیں، اتحاد مضبوط ہوتا ہے اور دعوت کا کام آسان ہو جاتا ہے۔
5) اخلاصِ نیت
ہر عمل کی قبولیت کا مدار نیت پر ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ عبادت، دعوت، خدمت اور سفر سب کچھ صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ نام و نمود، بحث برائے جیت، یا لوگوں پر اپنی برتری کا خیال دل میں نہ آئے۔ اس لیے نیت کی بار بار اصلاح، تواضع اور قبولیت کی دعا پر زور دیا جاتا ہے۔
6) دعوت و تبلیغ
یہ صفت تبلیغی جماعت کی جان ہے۔ دین کو صرف اپنے تک محدود نہ رکھنا بلکہ محبت، حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ دوسروں تک پہنچانا۔ قرآن کے حکم کے مطابق بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا امت کی ذمہ داری ہے۔ اسی دعوت کے ذریعے مسجدیں آباد ہوتی ہیں، سنتیں زندہ ہوتی ہیں اور ایمان کی تجدید ہوتی ہے۔
تبلیغی نصاب
فضائلِ اعمال اور حکایاتِ صحابہ
تبلیغی جماعت میں جو دینی لٹریچر پڑھا جاتا ہے اسے عرفِ عام میں “تبلیغی نصاب” کہا جاتا ہے۔ اس میں سب سے معروف کتاب فضائلِ اعمال ہے جس میں مختلف نیکیوں کے فضائل اور ایمان تازہ کرنے والی روایات شامل ہیں۔ اسی کا ایک اہم حصہ حکایاتِ صحابہ ہے جس میں صحابہ کرامؓ کی قربانی، ایثار اور یقین کی داستانیں بیان ہوتی ہیں جو دل میں دین کی محبت پیدا کرتی ہیں۔
[Internal Link: Hikayat-e-Sahaba]
فضائلِ صدقات
فضائلِ صدقات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب، قرآن و حدیث کی روشنی میں صدقہ کی اہمیت، اور اہلِ ایمان کے واقعات شامل ہیں۔ اس سے یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ مال، وقت اور صلاحیتیں اللہ کے دین پر لگانا بندے کی اصل کامیابی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تبلیغی محنت میں لوگ اپنا خرچ خود برداشت کر کے دین کے سفر اختیار کرتے ہیں اور اخلاص میں اضافہ کرتے ہیں۔
تاریخ کا مطالعہ: ماضی سے ربط
اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی سربلندی ہمیشہ ایمان کی مضبوطی اور دعوت کے فریضے سے جڑی رہی ہے۔ صحابہ کرامؓ نے دنیا کے گوشے گوشے میں توحید کا پیغام پہنچایا تو اللہ نے غلبہ عطا فرمایا۔ لیکن جب کبھی امت دعوت، اصلاح اور دینی غیرت سے دور ہوئی تو زوال بھی آیا۔ اسی لیے تبلیغی جماعت کا پیغام یہ ہے کہ تاریخ کے سبق سے فائدہ اٹھا کر ایمان اور عمل کو زندہ کیا جائے۔
اندلس: عروج و زوال کا سبق
اندلس (Spain) میں مسلمانوں نے صدیوں حکومت کی، علم و تہذیب کے مراکز قائم کیے اور دنیا کو متاثر کیا۔ لیکن جب دین کی روح کمزور ہوئی، آپس کے اختلافات بڑھے اور دعوت و اصلاح سے غفلت آئی تو زوال نے آ گھیرا، حتیٰ کہ 1492ء میں غرناطہ بھی ہاتھ سے نکل گیا۔ یہ تاریخ ہمیں سمجھاتی ہے کہ ایمان کی حفاظت اور دعوت کی محنت کے بغیر کوئی قوم دیر تک باقی نہیں رہ سکتی۔
[Internal Link: Al-Andalus History]
طارق بن زیاد: ایمان و یقین کی مثال
فتحِ اندلس کے آغاز میں طارق بن زیادؒ کی مثال بہت روشن ہے۔ روایت مشہور ہے کہ ساحل پر اترنے کے بعد انہوں نے واپسی کا راستہ بند کرنے کے لیے کشتیاں جلانے کا حکم دیا اور لشکر کو یاد دلایا کہ اب پیچھے سمندر ہے اور آگے دشمن، لہٰذا ثابت قدمی ہی راستہ ہے۔ یہ واقعہ امت کے لیے توکل اور یقین کی علامت بن گیا۔ تبلیغی جماعت بھی دلوں میں اسی ایمان و یقین کو زندہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
[Internal Link: Tariq bin Ziyad Story]
طریقۂ کار
تبلیغی جماعت نے دعوت کے کام کو منظم انداز میں چلانے کے لیے ایک عملی نظام بنایا ہے تاکہ عام مسلمان بھی آسانی سے اس محنت میں شریک ہو سکے۔ اس کے اہم حصے یہ ہیں:
- سہ روزہ (تین دن): قریبی علاقوں میں چند دن کے لیے نکل کر مسجد کے ماحول میں نماز، تعلیم اور دعوت کی مشق۔
- سہ روزہ (تین دن): قریبی علاقوں میں چند دن کے لیے نکل کر مسجد کے ماحول میں نماز، تعلیم اور دعوت کی مشق۔
- چلہ (چالیس دن): طویل مدت کے لیے نکل کر دین سیکھنا، اپنے نفس کی اصلاح کرنا اور دعوت کی محنت بڑھانا۔
- گشت: محلے میں جا کر محبت سے لوگوں کو مسجد اور دین کی طرف بلانا، احوال پوچھنا، اور خیر خواہی سے دعوت دینا۔
مذاکرے
تبلیغی ماحول میں روزانہ تعلیم اور مذاکرہ بہت اہم ہے۔ یہ نشستیں دلوں کو نرم کرتی ہیں، آخرت کی فکر تازہ کرتی ہیں اور ماحول کو دینی بناتی ہیں۔ بار بار ایمان، نماز، ذکر، سنت اور اکرام کی بات سننے سے انسان کی سوچ اور عادتیں بدلنے لگتی ہیں اور گھر، مسجد اور محلہ مجموعی طور پر بہتر ہوتا ہے۔
اثرات اور عالمگیر احیاء
اللہ کے فضل سے اس محنت کے اثرات دنیا بھر میں ظاہر ہوئے۔ بے نمازی نمازی بنے، مسجدیں آباد ہوئیں، سنتیں زندہ ہوئیں، اور دینی ماحول واپس آیا۔ مختلف ممالک اور قوموں کے لوگ ایک مقصد پر جمع ہوئے کہ ایمان کی تجدید کی جائے اور امت کے ہر فرد تک دین کی بنیادی دعوت پہنچائی جائے۔ یہ ایک خاموش مگر گہرا انقلاب ہے جو دلوں کو بدل کر معاشروں کو بدلتا ہے۔
نتیجہ: دعوتِ عمل
یہ مضمون صرف معلومات کے لیے نہیں بلکہ دعوت کے لیے ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ایمان مضبوط ہو، ہمارے گھر دیندار ہوں، اور ہماری نسلیں محفوظ رہیں تو ہمیں اللہ کے راستے میں وقت دینا ہوگا۔ دنیا کے لیے ہم ہر روز بہت کچھ کرتے ہیں، تو کیا اللہ کے لیے کچھ وقت نہیں نکال سکتے؟
آپ اپنے قریب کی مسجد کے ذمہ دار حضرات یا مقامی جماعت سے رابطہ کر کے کم از کم سہ روزہ کے لیے نکلنے کی نیت کریں۔ اللہ تعالیٰ نیت کی برکت سے راستے کھول دیتا ہے۔ اپنا دل اللہ کے سامنے رکھ کر دعا کریں کہ اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے، ایمان کی مٹھاس عطا کرے، اور ہمیں دین کی خدمت کا ذریعہ بنا دے۔
اللہ آپ کی چھوٹی سی قربانی کو قبول فرمائے اور اس میں بے پناہ برکت ڈال دے۔ آمین۔