خطبہ و تمھید برائے فضائل ذکر

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ، وَعَلٰی آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَاَتْبَاعِہٖ حَمَلَۃِ الدِّیْنِ الْقَوِیْمِ۔

اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ وَعَمَّ نَوَالُہٗ کے پاک نام میں جو برکت، لذت، حلاوت، سرور، اطمینان ہے وہ کسی ایسے شخص سے مخفی نہیں جو کچھ دن اس پاک نام کی رٹ لگا چکا ہو اور ایک زمانہ تک اس کو حرزِ جان بنا چکا ہو۔ یہ پاک نام دلوں کا سرور اور اطمینان کا باعث ہے۔ خود حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے: “اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ” (الرعد: ۲۸) ترجمہ: “خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر (میں یہ خاصیت ہے کہ اس) سے دلوں کو اطمینان ہو جاتا ہے”۔ آج کل عام طور سے عالم میں پریشانی ہے۔ روزانہ ڈاک میں اکثر وبیشتر مختلف نوع سے پریشانیوں ہی کا تذکرہ اور تفکرات ہی کی داستان ہوتی ہے۔

اس رسالہ کا مقصد یہی ہے کہ جو لوگ پریشان حال ہیں خواہ انفرادی طور پر یا اجتماعی طریقہ سے ان کو اپنے درد کی دوا معلوم ہو جائے اور اللہ کے ذکر کے فضائل کی عام اشاعت سے سعید ومبارک ہستیاں بہرہ مند ہو جائیں۔ کیا بعید ہے کہ اس رسالہ کے دیکھنے سے کسی کو اخلاص سے اس پاک نام کے لینے کی توفیق ہو جائے اور یہ مجھ ناکارہ وبے عمل کے لئے بھی ایسے وقت میں کام آجائے جس وقت صرف عمل ہی کام آتا ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ بلا عمل بھی اپنے فضل سے کسی کی دستگیری فرما لیں یہ دوسری بات ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت ایک خاص محرک یہ بھی پیش آیا کہ حق تعالیٰ شانہٗ وَعَمَّ نَوَالُہٗ نے اپنے لطف واحسان سے میرے عم محترم حضرت مولانا الحافظ الحاج محمد الیاس صاحب کاندھلوی مقیم نظام الدین دہلی کو تبلیغ میں ایک خاص ملکہ اور جذبہ عطا فرمایا ہے جس کی وہ سرگرمیاں جو ہند سے متجاوز ہو کر حجاز تک بھی پہنچ گئی ہیں کسی تعارف کی محتاج نہیں رہیں۔ اس کے ثمرات سے ہند وبیرونِ ہند عموماً اور خطۂ میوات خصوصاً جس قدر متمتع اور مستنفع ہوا اور ہو رہا ہے وہ واقفین سے مخفی نہیں۔ ان کے اصولِ تبلیغ سب ہی نہایت پختہ، مضبوط اور ٹھوس ہیں اور جن کے لئے عادۃً ثمرات وبرکات لازم ہیں۔ ان کے اہم ترین اصولوں میں سے یہ بھی ہے کہ مبلغین ذکر کا اہتمام رکھیں اور بالخصوص تبلیغی اوقات میں ذکر الہی کی کثرت کی جائے۔ اس ضابطہ کی برکات آنکھوں سے دیکھیں، کانوں سے سنیں جس کی وجہ سے اس کی ضرورت خود بھی محسوس ہوئی اور آنِ مخدوم کا بھی ارشاد ہوا کہ فضائلِ ذکر کو ان لوگوں تک پہنچایا جائے تاکہ جو لوگ محض تعمیلِ ارشاد میں اب تک اس کا اہتمام کرتے ہیں، وہ اس کے فضائل معلوم ہونے کے بعد خود اپنے شوق سے بھی اس کا اہتمام کریں کہ اللہ کا ذکر بڑی دولت ہے۔ اس کے فضائل کا احاطہ نہ تو مجھ جیسے بے بضاعت کے امکان میں ہے اور نہ واقع میں ممکن ہے اس لئے مختصر طور پر اس رسالہ میں چند روایات ذکر کرتا ہوں اور اس کو تین بابوں پر منقسم کرتا ہوں۔

باب اول: مطلق ذکر کے فضائل میں۔

باب دوم: افضل الذکر کلمہ طیبہ کے بیان میں۔

باب سوم: کلمہ سوم یعنی تسبیحاتِ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے بیان میں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں