خطبہ و تمھید برائے فضائل تبلیغ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ۔
حمد وصلوٰۃ کے بعد، مجددِ دینِ اسلام کے ایک درخشندہ جوہر اور علماء ومشائخِ عصر کے ایک آبدار گوہر کا ارشاد ہے کہ تبلیغِ دین کی ضرورت کے متعلق مختصر طور پر چند آیات واحادیث لکھ کر پیش کروں، چونکہ مجھ جیسے سیاہ کار کیلئے ایسے ہی حضرات کی رضا وخوشنودی وسیلۂ نجات اور کفارۂ سیئات ہو سکتی ہے، اس لئے اس عُجالۂ نافعہ کو خدمت میں پیش کرتے ہوئے ہر اسلامی مدرسہ، اسلامی انجمن، اسلامی اسکول اور ہر اسلامی طاقت بلکہ ہر مسلمان سے گذارش ہے کہ اس وقت دین کا انحطاط جس قدر روزافزوں ہے، دین کے اوپر جس طرح کفار کی طرف سے نہیں، خود مسلمانوں کی طرف سے حملے ہو رہے ہیں۔ فرائض وواجبات پر عمل عام مسلمانوں سے نہیں، بلکہ خاص اور اخص الخواص مسلمانوں سے متروک ہوتا جا رہا ہے۔ نماز روزہ کے چھوڑ دینے کا کیا ذکر جب کہ لاکھوں آدمی کھلے ہوئے شرک وکفر میں مبتلا ہیں اور غضب یہ ہے کہ ان کو شرک وکفر نہیں سمجھتے۔ مُحرمات اور فسق وفجور کا شیوع جس قدر صاف اور واضح طریق سے بڑھتا جا رہا ہے اور دین کے ساتھ لاپرواہی بلکہ استخفاف واستہزاء جتنا عام ہوتا جا رہا ہے وہ کسی فردِ بشر سے مخفی نہیں۔
اسی وجہ سے خاص علماء بلکہ عام علماء میں بھی لوگوں سے یکسوئی اور وحشت بڑھتی جا رہی ہے۔ جس کا لازمی اثر یہ ہو رہا ہے کہ دین اور دینیات سے اجنبیت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ عوام اپنے کو معذور کہتے ہیں کہ ان کو بتلانے والا کوئی نہیں، اور علماء اپنے کو معذور سمجھتے ہیں کہ ان کی سننے والا کوئی نہیں۔ لیکن خدائے قدوس کے یہاں نہ عوام کا یہ عذر کافی کہ کسی نے بتلایا نہ تھا، اس لئے کہ دینی امور کا معلوم کرنا، تحقیق کرنا، ہر شخص کا اپنا فرض ہے۔ قانون سے ناواقفیت کا عذر کسی حکومت میں بھی معتبر نہیں، احکم الحاکمین کے یہاں یہ پوچ عذر کیسے چل سکتا ہے؟ یہ تو “عذرِ گناہ بدتر از گناہ” کا مصداق ہے۔ اسی طرح نہ علماء کے لئے یہ جواب موزوں کہ کوئی سننے والا نہیں۔ جن اسلاف کی نیابت کے آپ حضرات دعوے دار ہیں انہوں نے کیا کچھ تبلیغ کی خاطر برداشت نہیں فرمایا۔ کیا پتھر نہیں کھائے، گالیاں نہیں کھائیں، مصیبتیں نہیں جھیلیں؟ لیکن ہر نوع کی تکالیف برداشت فرمانے کے بعد اپنی تبلیغی ذمہ داریوں کا احساس فرما کر لوگوں تک دین پہنچایا۔ ہر سخت سے سخت مزاحمت کے باوجود نہایت شفقت سے اسلام واحکامِ اسلام کی اشاعت کی۔
عام طور پر مسلمانوں نے تبلیغ کو علماء کے ساتھ مخصوص سمجھ رکھا ہے، حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے، بلکہ ہر وہ شخص جس کے سامنے کوئی منکر ہو رہا ہو اور وہ اس کے روکنے پر قادر ہو یا اس کے روکنے کے اسباب پیدا کر سکتا ہو اس کے ذمہ واجب ہے کہ اس کو روکے۔ اور اگر بفرضِ محال مان بھی لیا جاوے کہ یہ علماء کا کام ہے تب بھی جب کہ وہ اپنی کوتاہی سے یا کسی مجبوری سے اس حق کو پورا نہیں کر رہے ہیں یا ان سے پورا نہیں ہو رہا ہے تو ضروری ہے کہ ہر شخص کے ذمہ یہ فریضہ عائد ہو۔ قرآن وحدیث میں جس قدر اہتمام سے تبلیغ اور اَمر بالمعروف ونہی عن المنکر کو ارشاد فرمایا گیا ہے، وہ ان آیات واحادیث سے ظاہر ہے، جو آئندہ فصلوں میں آ رہی ہیں۔ ایسی حالت میں صرف علماء کے ذمہ رکھ کر یا ان کی کوتاہی بتا کر کوئی شخص بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ اس لئے میری علی العموم درخواست ہے کہ ہر مسلمان کو اس وقت تبلیغ میں کچھ نہ کچھ حصہ لینا چاہئے۔ اور جس قدر وقت بھی دین کی تبلیغ اور حفاظت میں خرچ کر سکتا ہو کرنا چاہئے۔
ہر وقت خوش کہ دست دهد مغتنم شمار کس را وقوف نیست کہ انجامِ کار چیست
یہ بھی معلوم کر لینا ضروری ہے کہ تبلیغ کے لئے یا اَمر بالمعروف ونہی عن المنکر کیلئے پورا کامل ومکمل عالم ہونا ضروری نہیں۔ ہر وہ شخص جو کوئی مسئلہ جانتا ہو اس کو دوسروں تک پہنچائے۔ جب اس کے سامنے کوئی ناجائز امر کیا جا رہا ہو اور وہ اس کے روکنے پر قادر ہو تو اس کا روکنا اس پر واجب ہے۔
اس رسالہ میں مختصر طور پر سات فصلیں ذکر کی ہیں۔