خطبہ و تمھیدبرائے فضائل نماز
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ، وَعَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَاَتْبَاعِہِ الْحُمَاۃِ لِلدِّیْنِ الْقَوِیْمِ، وَبَعْدُ: فہٰذہ اَرْبَعُوْنَ فِیْ فَضَائِلِ الصَّلٰوۃِ جَمَعْتُہَا اِمْتِثَالاً لِاَمْرِ عَمِّیْ وَصِنْوِ اَبِیْ، رَقَّاہُ اللہُ اِلٰی الْمَرَاتِبِ الْعُلْیَا وَوَفَّقَنِیْ وَاِیَّاہُ لِمَا یُحِبُّ وَیَرْضٰی۔ اَمَّا بَعْدُ:
اس زمانہ میں دین کی طرف سے جتنی بے توجہی اور بے التفاتی کی جا رہی ہے وہ محتاجِ بیان نہیں، حتیٰ کہ اہم ترین عبادت نماز جو بالاتفاق سب کے نزدیک ایمان کے بعد تمام فرائض پر مقدم ہے اور قیامت میں سب سے اول اسی کا مطالبہ ہوگا اس سے بھی نہایت غفلت اور لاپرواہی ہے، اس سے بڑھ کر یہ کہ دین کی طرف متوجہ کرنے والی کوئی آواز کانوں تک نہیں پہنچتی، تبلیغ کی کوئی صورت بارآور نہیں ہوتی۔ تجربہ سے یہ بات خیال میں آئی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاک ارشادات لوگوں تک پہنچانے کی سعی کی جائے، اگرچہ اس میں بھی جو مزاحمتیں حائل ہیں وہ بھی مجھ سے بے بضاعت کیلئے کافی ہیں، تاہم اُمید یہ ہے کہ جو لوگ خالی الذہن ہیں اور دین کا مقابلہ نہیں کرتے ہیں، یہ پاک الفاظ ان شاء اللہ تعالیٰ ان پر ضرور اثر کریں گے اور کلام وصاحبِ کلام کی برکت سے نفع کی توقع ہے، نیز دوسرے دوستوں کو اس میں کامیابی کی اُمیدیں زیادہ ہیں جن کی وجہ سے مخلصین کا اصرار بھی ہے، اس لئے اس رسالہ میں صرف نماز سے متعلق چند احادیث کا ترجمہ پیش کرتا ہوں۔ چونکہ نفسِ تبلیغ کے متعلق بندہ ناچیز کا ایک مضمون رسالہ فضائلِ تبلیغ کے نام سے شائع ہو چکا ہے، اس وجہ سے اس کو سلسلۂ تبلیغ کا نمبر ۲ قرار دے کر فضائلِ نماز کے نام کیساتھ موسوم کرتا ہوں۔
وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ۔
نماز کے بارے میں تین قسم کے حضرات عام طور سے پائے جاتے ہیں: ایک جماعت وہ ہے جو سرے سے نماز ہی کی پرواہ نہیں کرتی، دوسرا گروہ وہ ہے جو نماز تو پڑھتا ہے،مگر جماعت کا اہتمام نہیں کرتا، تیسرے وہ لوگ ہیں جو نماز بھی پڑھتے ہیں اور جماعت کا بھی اہتمام بھی کرتے ہیں، مگر لاپرواہی اور رُوپڑی طرح سے پڑھتے ہیں۔ اس لئے اس رسالہ میں تینوں مضامین کی مناسبت سے تین باب ذکر کئے گئے ہیں اور ہر باب میں نبی اکرم ﷺ کے پاک ارشادات اور ان کا ترجمہ پیش کر دیا ہے، مگر ترجمہ میں وضاحت اور سہولت کا لحاظ کیا ہے، لفظی ترجمہ کی زیادہ رعایت نہیں کی، نیز چونکہ نماز کی تبلیغ کرنے والے اکثر اہلِ علم بھی ہوتے ہیں اس لئے حدیث کا حوالہ اور اس کے متعلق جو مضامین اہلِ علم سے تعلق رکھتے تھے وہ عربی میں لکھ دیئے گئے ہیں کہ عوام کو اُن سے کچھ فائدہ نہیں ہے اور تبلیغ کرنے والے حضرات کو بسا اوقات ضرورت پڑجاتی ہے اور ترجمہ و فوائد وغیرہ اردو میں لکھ دیئے گئے ہیں۔